خوش آمدید

Balapur Fort

بالاپور قلعہ

تیہ قلعہ مغل حکمرانوں کی چھاؑونی تھا۔ اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند مرزا اعظم شاہ کے دور میں قلعہ کا تعمیری کام شروع ہوا تھا۔

Balapur Chhatri

راجہ جے سنگھ کی چھتری

شاہ جہاں کے کمانڈر اور اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کے جنرل مرزا جؑے سنگھ نے بالاپور میں چھتری کی تعمیر کی۔

Khanqa Naqshbandiya

خانقاہ نقشبندیہ بالاپور

حضرت قطب شاہ ارمان رحمتہ اللہ علیہ اور شاہ عنایت اللہ کتب خانہ، خانقاہ شریف نقشبندیہ بالاپور

ڈارک ویب انٹرنیٹ کی کالی دنیا

ڈارک ویب انٹرنیٹ کی کالی دنیا

انسانی اسمگلنگ کا سب سے بڑا گڑھ ڈارک ویب ورلڈ کو کہا جاتا ہے۔۔یہاں خواتین کو بیچنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔۔جوزف کاکس جو کہ ایک ریسرچر ہیں وہ دو ہزار پندرہ میں ڈیپ ویب ورلڈ پر ریسرچ کر رہے تھے۔۔ایسے میں اسی ورلڈ میں انھیں گروپ ٹکرایا جس کا نام "بلیک ڈیتھ " تھا اور انھوں نے جوزف کو ایک عورت بیچنے کی آفر کی جس کا نام نکول بتایا اور وہ گروپ اس عورت کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالرز مانگ رہا تھا۔

ظہور مہدی اور تیسری عالمی جنگ

ظہور مہدی اور تیسری عالمی جنگ

ظہور امام مہدی کی ایک عام علامت دو گرہنوں کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ باب الفتن میں ابو نعیم سے روایت ہے کہ امام مہدی کی آمد سے پہلے رمضان میں صرف دو چاند گرہن ہوں گے اور المتقی الہندی البرہان فی علامات المہدی میں رمضان کے دوران ایک سورج گرہن اور غالبا ایک چاند گرہن کا بیان ہے۔ اگرچہ ماہرین فلکیات ایک ہی ماہ میں دو چاند یا دو سورج گرہن کا ہونا ناممکن قرار دیتے ہیں لیکن ۱۹۸۱ میں یعنی ۱۵ رمضان ۱۴۰۱ ہجری کو چاند گرہن ہوا اور پھر اسی ماہ میں ۲۹ تاریخ کو سورج گرہن

ان جیالوں کے نام کہ شب کے نالے جنھیں سونے نہیں دیتے۔ ان بےتاب ہستیوں کے نام جنکے دل زندہ ہے۔۔ ان بے باک قلندروں کے نام کہ جنکی ٹھوکر میں زمانہ ہے۔ یہ خط مجھے ملا۔ ایک خاتون کی دل کی آواز

ان جیالوں کے نام کہ شب کے نالے جنھیں سونے نہیں دیتے۔ ان بےتاب ہستیوں کے نام جنکے دل زندہ ہے۔۔ ان بے باک قلندروں کے نام کہ جنکی ٹھوکر میں زمانہ ہے۔ یہ خط مجھے ملا۔ ایک خاتون کی دل کی آواز

کوئی ماں باپ نہیں چاہتے کہ اس پُر فتن دور میں ان کی بیٹی زیادہ دن تک گھر بیٹھی رہے۔ ان کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلد از جلد بیٹی کی شادی کر کے اپنا فرض ادا کر دے اور بیٹی کے بالغ ہوتے ہی یعنی پندرہ سولہ سال کی عمر تک ان کی شادی ہو جائے تو اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو گی بھلا۔

لیکن شادی کرے کس سے؟

آسمان سے تو لڑکے اترتے نہیں ناں ؟ اور جو زمین پر مسلمانوں میں موجود ہیں ان کا حال کیا ہے

مفتی اسماعیل طورو سے منسوب

مفتی اسماعیل طورو سے منسوب

دوستو! فوج کے کچھ نوجوانوں کی پرسرار حرکتوں پر سلطان ایوبی خود انکے پیچھے گئے تو معلوم ہوا فوجی قیام گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک قافلہ رکا ہے ۔ جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے پاس فحش تصاویر کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔ جب سلطان نے وہ تصاویر دیکھیں تو دنگ رہ گئے ۔ ان میں ایسی منظر کشی کی گئی تھی کہ کوئی بھی نوجوان سیکس کیلئے جنونی ہوسکتا تھا ۔اسی دوران سلطان صلاح الدین ایوبی کو دمشق اور مصر کے دیگر شہروں سے اطلاعات ملیں کہ شہر میں فحش تصاویر کے قبہ خانے کھل گئے ہیں ۔ جہاں جنسی اشتعال انگیز تصاویر دکھائ

آزادی کے بعد اے اہل جہاں تم کس آزادی کی بات کرتے ہو؟

آزادی کے بعد اے اہل جہاں تم کس آزادی کی بات کرتے ہو؟

عورتوں اور لڑکیوں کے تعلق سے دنیا کے قانون داں اصول و ضوابط کی جمع وضع کے بعد بھی خواتین کے حقوق ادا نہیں کر پائے۔ یتیم کو ہنسانے کے بجائے اور رلایا گیا۔ بیوہ اور طلاق شدہ کے دامنوں کو سنبھالنے کے بجائے انھیں بازار کی رونق بنایا گیا۔ لڑکیوں کے لئے تعلیمی پروگرام تو خوب چلائے لیکن انکی عصمتوں کو پس دیوار روندا گیا۔ خواتین کو روزگار کا لالچ دے کر بازار کی زینت بنایا اور خوب خوب جنسی اتحصال کیا یہاں تک کہ